کمپنی کے بارے میں

ہوم > کمپنی کے بارے میں > بورڈ آف ڈائریکٹرز

بورڈ آف ڈائریکٹرز

جناب شیخ علی شاہی خاندان کے ایک فرد ہیں جوکہ قطر کے معروف ومشہور تاجر ہیں۔تعلیمی اعتبار سے اُنہوں نے پورٹ لینڈ اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ سے پولیٹکل سائنس میں گریجویشن کی ہے۔ فی الحال وہ ’’اُمّ ہیش انٹرنیشنل ‘‘ اور ’’ الجزیرہ ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ ‘‘ کے چیئرمین ہیں۔اس سے پہلے وہ قطر انٹرنیشنل اسلامک بینک کے چیئرمین تھے۔

جناب سیدگل پاک قطر فیملی تکافل  (جوکہ آج پاکستان میں سب سے کامیاب ترین تکافل گروپ ہے جس کو قطر کے سب سے مضبوط ترین چند معاشی اداروں کا تعاون حاصل ہے)کے ڈائریکٹر ہیں۔جناب سعید گل ریاستِ قطر میں ایک ممتاز پاکستانی تاجر ہیں۔فی الحال وہ Eurotec Projects Development for Oil & Gas (جوکہ ایک تجارتی اور مشاورتی انٹرپرائز ہے) میں ایزیکٹیو ڈائریکٹر کے طورپر کام کر رہے ہیں۔اس سے پہلے وہ 17 سال جنرل سروسز کے ہیڈ کے طورپر قطر پیٹروکیمیکل کمپنی کے ساتھ منسلک تھے۔ اس کے بعد وہ 14سال Al-Muftah Projects & Industrial Services کے ڈائریکٹر آپریشن تھے۔

جناب سعید گل پاک قطر بزنس فورم کے بورڈ کے ایکزیکٹیو ممبرز میں سے ہیں، اور دوحہ میں پاکستان ویلفیئر فارم کے بانیوں میں سے ہیں اور مختلف بین الاقوامی فورم پر پاک قطر گروپ کی نمائندگی بھی کی ہے۔

پاک قطرفیملی تکافل نے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کی ہےاور پاکستان کی انڈسٹری میں مارکیٹ کے لیڈر کے طور پراُبھرا ہے۔کمپنی نے نا صرف آپریشنز اور بزنس میں نمایاں ترقی کی ہے، بلکہ ایک قائدانہ کارپوریٹ کمپنی کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت حاصل کی ہے۔ پاکستان میں کامیابی سے تکافل کو فروغ دینے،برانچ نیٹ ورک کو پورے ملک میں پھیلانے ، اور نئی پراڈکٹس کو متعارف کرانے کا اعزاز بھی پاک قطر فیملی تکافل کو حاصل ہے۔

 

تعلیمی اعتبار سے جناب عبدالباسط Fayetteville یونیورسٹی ، نارتھ کیرولینا امریکہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر آف سائنس ہیں۔ فی الحال وہ قطر انٹرنیشنل اسلامک بینک کے CEO اور اسلامک فنانشل سیکیورٹیز کمپنی ، دوہا کے بورڈ کے ممبر ہیں

جناب علی ابراہیم عبدالغنی فی الحال قطر اسلامک انشورنس کمپنی (QIIC ) کے CEO ہیں، 1985  ء میں Campbell یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُنہوں نے منسٹری آف لیبر اینڈ سوشل آفیئرز آف قطر میں ہیڈ آف فائنانس اینڈ ایڈمنسٹریشن افیئرز کے طورپر شمولیت اختیار کی۔اس کے بعد اور QIIC میں شمولیت اختیار کرنے سےپہلے اُنہوں نے Qatar Armed Forces میں ہیڈ آف پروکیورمنٹ کے طورپر بھی ملازمت کی ہے۔

جناب محمدأویس انصاری FWU گلوبل تکافل سلوشن کے چیف آپریٹنگ آفسر اور تکافل سے متعلق امور کے ماہر ہیں۔ وہ FSA یعنی ایکچوریز سوسائٹی کے رُکن اور انگلینڈ اور وسطِ ایشیا میں روایتی انشورنس اور تکافل سے متعلق کام کرنے کا نمایاں تجربہ رکھتے ہیں۔ FWU کو اختیار کرنے سے پہلے جناب انصاری PWC انگلینڈ میں ایک سینئر کنسلٹنٹ تھے۔جہاں اُنہوں نے مختلف قسم کے کنسلٹنٹ پروجیکٹس جیسے Solvency II ، M & A ، Pension ، Buyout اور Actuarial audits پر کام کیا۔جناب انصاری کو SAMA یعنی Saudi Arabian Monetary Agencyمیں انشورنس کے ایڈوائزر کے طورپر بھی کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے۔تاکہ ایک ایمرجنٹ سعودی انشورنس مارکیٹ کیلئے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک پروان چڑھ سکے اور اُس کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ جناب انصاری اُس سینئر مینجمنٹ ٹیم کا بھی حصہ تھے جو سعودی عرب میں HSBC کی پہلی تکافل آپر یشن تشکیل دینے کی ذمہ دارتھی۔

جناب زاہد حسین اعوان پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں، جنہیں بینکنگ انڈسٹری میں 36 سال کا مضبوط تجربہ بھی حاصل ہے۔ابتدائی طورپر اُنہوں نے بینکنگ کا تجربہ زیادہ تر GCC ممالک سے حاصل کیا اور تقریباً 10 سال کنونشنل بینکنگ میں کام کیا۔ 1990 ء میں اُنہوں نے قطر انٹرنیشنل اسلامک بینک (QIIB) میں شمولیت اختیار کی جہاں وہ (Treasury & corresponding banking ) کی نگرانی کررہےتھے

جناب جنیدی صاحب انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) کے شریک رکن ہیں ،اور آپ آئی سی اے پی کے نائب صدر اور کونسل رکن کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں ،اسی طرح آپ جنیدی شعیب اسد ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس میں سینئر شریک کے طور پر بھی کام کررہے ہیں ۔آپ 30 سال کا وسیع اور متنوع تجربہ رکھتے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ فائنانشل اینڈ بزنس مینیجمنٹ،اسٹریٹیجک پلاننگ،بجٹ ایڈمنسٹریشن، اسٹاف ٹریننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ،کانٹریکٹ نیگوسئیشن،آڈٹ کو آرڈینیشن،پالیسی اینڈ پروسیجرل ڈیویلپمنٹ،رسک مینیمجنٹ،ٹیکس پلاننگ اینڈ کمپلائنس ،رپورٹ پریپریشن اور پبلک ریلیشن میں مہارت رکھتے ہیں ۔

سمیرا عثمان کے پاس مقامی اور غیر ملکی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کا تقریبا 10 سال کا ایک متمول اور متنوع تجربہ ہے, سینئر انتظامی عہدوں پر مختلف تنظیموں کے لئے کام کرنے کا اعزاز انھیں حاصل ہے۔